نئی دہلی، 31؍ جنوری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)کاس گنج تشدد کو لے کر بریلی کے ڈی ایم راگھوندر کی جانب سے فیس بک پرکیے گئے متنازعہ پوسٹ کو ہٹائے جانے کے بعد بھی تنازع ابھی تھما نہیں تھا کہ ایک اورسینئر سطح کے نوکر شاہ نے ان کے تبصرے کو اپنے فیس بک وال سے پوسٹ کر دیا۔بریلی کے ڈی ایم کیپٹن راگھوندر وکرم سنگھ کے اپنی پوسٹ پر معافی نامہ کے بعد اب ہریانہ کے مشہور آئی اے ایس افسر پردیپ کاسنی بھی فیس بک پوسٹ جنگ میں کودگئے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ کاسنی نے اپنی وال پر راگھوندر کے اس پوسٹ کواپنی وال پر پوسٹ کیا جسے وہ پہلے ہی ہٹاچکے ہیں۔کاسنی کی پڑھائی ہریانہ کے بھوانی اور دہلی میں ہوئی اور انہیں ایک تیزطرار افسرمانا جاتا ہے، اب تک ان کا تقریبا 70 بارٹرانسفرکیاگیاہے، کیپٹن راگھوندر کی طرح ہی کاسنی بھی جلد (28 فروری) ریٹائرڈ ہونے والے ہیں۔کاسنی کی بیوی نیلم کاسنی بھی ایک آئی اے ایس آفیسر ہیں اور وہ حال ہی میں گورنر کے اے ڈی سی کے عہدے سے ریٹائرہوئی ہیں۔کاسنی نے نہ صرف ڈی ایم راگھوندر کی پوسٹ کواپنی وال پر ڈالا بلکہ ان کی طرف سے کئی پوسٹ اس تشدد کے خلاف ہیں، زیادہ ترپوسٹ کسی نہ کسی رائٹر کے ذریعے کیاگیاہے۔بریلی کے ڈی ایم کے پوسٹ پر بڑھتے تنازع کو دیکھتے ہوئے کاسنی نے 30 جنوری کی صبح اسی پوسٹ کو اپنے وال سے ڈالتے ہوئے کاس گنج پرمشکل وقت قرار دیا۔اس سے پہلے کاسنی نے 30 جنوری کو مہاتما گاندھی کی برسی پر محمد اخلاق کو لے کر 2 پوسٹ کیا اور اسے عنوان دیا ’’گاندھی جی کے دیش میں‘‘ اس دن گاندھی کو لے کرکئی پوسٹ کئے گئے۔29 جنوری کوایک پوسٹ میں لکھتے ہیں کہ جھنڈالہرانے کیلئے ہوتاہے نہ کہ بھرے بازارگھسیٹنے کے لئے،گھماتے تولنگوٹ ہیں، پہلوان اپنے اکھاڑے کے اندرنہ کہ محلے کوچے میں۔ان کاایک اورپوسٹ ہے’’ہائے سماج جی! احمق فسادیوں کی افواہ بازی اور لاوا۔لوتری سے تمہاری ہی فضیحت ہوتی ہے، بچو اے سماج جی! تبھی ہم بھی بچیں گے!‘‘۔اس سے پہلے 28 جنوری کو ایک پوسٹ کیا جس میں انہوں نے لکھاکہ ’’خودبخود کوئی فساد ہوا ہے آج تک؟ !! ہمیشہ بھڑکایا جاتا ہے. وہ بھڑکاتے ہیں جو اس کے ذریعے اپنا فائدہ دیکھتے ہیں، وہ خواہ مخواہ کوئی فساد نہیں بھڑکاتے!۔ تھوڑی دیر کے بعد انہوں نے ایک اور پوسٹ لکھاکہ’’فسادی جھوٹ بولتے ہیں اور پھنس جاتے ہیں‘‘ پھر 29 جنوری کی صبح وہ ایک پوسٹ کرتے ہیں ’’توڑنے کی نہیں جوڑنے کی ضرورت ہے، سب بھائی ہیں‘‘۔کاس گنج میں ہوئے تشدد کے بعد انہوں نے پوسٹ کیا، ’’کاس گنج میں’’تمس‘‘دہرایاگیا، بری خبر، بدقسمتی‘‘۔28 جنوری کی رات کو انہوں نے ایک پوسٹ کیا، جس میں مدھووندت چتررویدی کاذکرکرتے ہوئے پوسٹ کیاہے، اس پوسٹ میں لکھاکہ ’’دیش بھکتی قربانی والی اور شریفانہ ہوتی ہے ، قاتل اور فسادی نہیں، لوٹ ماروں اورلفنگوں نے دیش بھکتی کاٹھیکہ لے لیاہے۔
کاسنی خودکوادب سے دلچسپی رکھنے والابتاتے ہیں، وہ سوشل میڈیا پر مسلسل سرگرم رہتے ہیں، فیس بک پران کے فالوورس6ہزارسے زیادہ ہیں۔ ان کے فیس بک وال پرلکھی گئیں معلومات کی بنیاد پر وہ چرکھی دادری کے ہنے والے ہیں۔نومبر میں وہ اس سرخیوں میں آئے جب انہیں حکومت کی طرف سے تنخواہ، دفتر، گاڑی اور اسٹاف نہیں دیا گیاتب ماحولیات محکمہ کے تحت آنے والے’’ لینڈیوز بورڈ‘‘او ایس ڈی بنے کاسنی کوتین ماہ میں ایک بار بھی تنخواہ نہیں دی گئی تھی۔ ریاستی حکومت نے کاسنی کو 22 اگست کو لینڈیوز بورڈ کا او ایس ڈی بنایاتھا، تنخواہ اور دیگر سہولیات کے لئے وہ کورٹ تک گئے۔